چکبالاپور27جنوری (ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے اس ضلع میں خشک سالی سے متاثرہ راحت کاری کے کام انجام دینے میں ناکام ہے ۔ اس جانب توجہ نہ دیتے ہوئے گرانٹ بھی منظور نہ کئے جانے پر ضلع انتطامیہ مکمل طور پر راحت کاری کے کام انجام دینے میں ناکام ہوگیا ہے ۔ یہ الزامات ودھان سبھا میں اپوزیشن لیڈر و ریاستی بی جے پی صدر بی یس یڈیورپا نے کل ضلع کے گڈنہلی میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور ضلع انتظامیہ بھون میں ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل خشک سالی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے ان سے جانکاری حاصل کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے لگائے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میں تو ایک جوابداہی کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کے طور ریاست کی قحط سالی کا اور اس کے لئے اٹھائے جانے والے راحت کاری کے کام کاج کا جائزہ لے رہا ہوں۔ میں کسی کے اوپر انگلی اٹھانے کے لئے ریاست کا دورہ نہیں کر رہا ہوں۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے مقام اور جوابدہی کے ساتھ بات کریں تو بہتر رہئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ضلع کوقحط شدہ کے طور پر اعلان کئے چار ماہ کا عرصہ گذرچکا ہے اس کے باوجود بھی کسانوں کو ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔ ہر جگہ پانی کے لئے دقت ہے اور حکومت اپنی کرسی بچانے میں لگی ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی اور کام حکومتی سطح پر نہیں ہورہا ہے ۔ یڈیورپا نے کہا کہ حکومت کم سے کم پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے کے لئے بھی رقم جاری نہیں کر رہی ہے ۔ قحط سالی سے لوگ ایک مقام سے دسرے مقام کو منتقل ہونے تیار ہیں ۔ حکومت ان سب کو ادیوگا کھاتری یوجنا کے تحت بھی روزگار فراہم نہیں کر رہی ہے ۔ چامراج نگراور کولار ضلع کے مقابلے میں اس ضلع میں قحط سالی سے دوچار علاقوں میں راحت کاری کے کام میں پیچھے ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضلع انتظامیہ بھی راحت کاری کے کام کاج تیزی کے ساتھ کرنے میں نااہل ہوگیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقہ کے رکن پارلمان ویرپا موئیلی تو ایک ناکارہ اور نااہل یم پی ہیں ۔ وہ اپنے علاقہ میں ہی اب تک مشہور نہیں ہوئے ہیں۔ ایک کام بھی جوابدہی کے ساتھ نبھانہیں رہے ہیں۔ اس علاقہ کے قحط کے متعلق بھی انہوں نے اب تک وزیر اعظم ۔ اور متعلقہ وزراء سے بات چیت بھی نہیں کی ہے ۔اس موقع پر انہوں نے اعلان بھی کیا کہ چکبالاپور لوک سبھا حلقے سے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر سابق وزیر اور پچھلی بار بہت ہی کم اکثریت سے شکست کا سامنا کرنے والے بی ین بچے گوڈا ہی امیدوار ہو کر موجودہ یم پی ویرپا موئیلی کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ اس لئے تمام پارٹی لیڈران اور ورکران کو چاہئے کہ بی ین بچے گوڈا کی کامیابی کے لئے محنت اور کوشش کریں۔ یڈیورپا نے کہا کہ پرینکا گاندھی کے سیاست میں داخلہ لینے سے تو کوئی بڑا اثر پڑنے والا نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک دو سیٹ زپر مزید کامیابی مل سکتی ہے ۔ پھر بھی اس سال ہونے والے پارلمانی الیکشن میں ریاست میں بی جے پی 20 تا22 سیٹوں پر کامیابی حاصل کریگی۔ ایڈی یورپا نے کولار ضلع کے ملباگل اور اس ضلع کے سلگٹہ تعلقہ کے گڈنہلی قریہ کے چند ایک فصلوں کا معائنہ بھی کیا جو صرف پانچ تا دس منٹ کے وقفہ میں ختم ہوگیا ۔